ابنا: پندرہ لاکھ سے زائد لوگوں نے شام کے شمالي صوبے حلب ميں مظاہرے کرکے ملک کے صدر بشار اسد کي حکومت کي حمايت کا اعلان کيا ہے- ان مظاہروں ميں شامي عوام کے مختلف طبقات کے لوگ شريک تھے اور انہوں نے قومي پرچم کے علاوہ اپنے ہاتھوں ميں صدر بشار اسد کي تصاوير بھي اٹھارکھي تھيں-
مظاہرين حکومت شام کي حمايت اور صدر اسد کي جانب سےاعلان کردہ اصلاحات کے حق ميں نعرے لگا رہے تھے- مظاہرين نے ملک کے اندر امريکا اور مغربي حکومتوں کي جانب سے کي جانے والي سازشوں اور فتنہ انگيزيوں کي مذمت کي اور ملک کي آزادي و خودمختاري کے حق پر زور ديا-
مظاہرين نے چين اور روس کي جانب سے تاريخي موقف پر عمل کرتے ہوئے سلامتي کونسل ميں شام کي حمايت اور عالمي مسائل ميں امريکہ کي خودسرانہ پاليسيوں کي مخالف کا بھي شکريہ ادا کيا- چين اور روس نے حال ہي ميں سلامتي کونسل ميں شام کے خلاف پيش کي جانے والي قرار داد کو ويٹو کرديا تھا جسکي وجہ سے دمشق پر مزيد عالمي پابندياں لگائي جاسکتي تھيں- يہاں يہ بات بھي قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے جب سے شام ميں بدامني کا سلسلہ شروع ہوا ہےشامي عوام متعدد ملک کي اقتداراعلي اور آزادي وخود مختاري کے حق ميں مظاہرے کرتے رہے ہيں اور انہوں نے اپنے داخلي امور ميں بيروني مداخلت اور سازشوں کے مقابلے ميں اپنے اتحاد کا مظاہرہ کيا ہے- ايک اور اطلاع کے مطابق ہندوستاني ذرائع ابلاغ کے ايک وفد نے مغربي شام کے شہر لاذقيہ کا دورہ کر نے کے بعد شام کي حاليہ بدامني کے بارے ميں بعض سيٹلائٹ چينلوں کي رپورٹوں کو کذب محض قرار ديے ديا ہے- اس وفد کا کہنا ہے کہ علاقائي اور عالمي سطح پر شام کي حقيقي صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لئے ذرائع ابلاغ سے جھوٹي خبريں نشر کي جارہي ہيں- روسي ذرائع ابلاغ کے ايک وفد نے بھي جنوبي شام کے شہر درعا کا دورہ کيا ہے اور شام کے بارے ميں ذرائع ابلاغ کي خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار ديا ہے-
............
/169